وارانسی،8؍جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) حکومت ِ اترپردیش نے گیان واپی مسجد کے سروے کا حکم دینے والے سیول جج (سینئر ڈیویژن) روی کمار دیواکر کی سیکوریٹی بڑھادی ہے۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق جج کو اسلامک آغاز موومنٹ نامی تنظیم کی طرف سے دھمکی آمیز مکتوب ملا تھا جس کے بعد سیکوریٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔
رپورٹوں کے مطابق چہارشنبہ کے رجسٹرڈ ڈاک سے خط ملنے کے فوری بعد سیول جج نے ایڈیشنل چیف سکریٹری (داخلہ)‘ ڈائرکٹر جنرل پولیس اور کمشنر پولیس وارانسی کو الرٹ کردیا۔ کمشنر پولیس وارانسی اے ستیش گنیش نے بتایا کہ خط کے ساتھ کئی منسلکات ہیں۔ ڈپٹی کمشنر پولیس (ورونا زون) کو تحقیقات کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وارانسی میں سیول جج اور لکھنو میں جج کی ماں کی سیکوریٹی کا ازسرنو جائزہ لیا جارہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضلع جج کو باقاعدہ سیکوریٹی کور فراہم کیا گیا ہے۔
ہاتھ سے لکھے خط میں کاشف احمد صدیقی نامی شخص نے جس نے صدر‘ اسلامک آغاز موومنٹ ہونے کا دعویٰ کیا ہے‘ کہا ہے کہ تفرقہ پسند سیاسی منظرنامہ میں جج بھی بھگوا ہوگئے ہیں۔
مکتوب میں وزیراعظم اور سابق چیف جسٹس آف انڈیا کے تعلق سے اہانت آمیز ریمارکس کئے گئے ہیں۔ سیول جج نے 12مئی کے احکام میں کہا تھا کہ معمولی دیوانی مقدمہ میں خوف کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔ میری فیملی اور میں خوف میں جی رہے ہیں۔